
<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>رائے &#8211; The Milli Chronicle</title>
	<atom:link href="https://millichronicle.com/category/%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88/%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92/feed" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://millichronicle.com</link>
	<description>Factual Version of a Story</description>
	<lastBuildDate>Sat, 09 Nov 2019 08:03:21 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	

<image>
	<url>https://media.millichronicle.com/2018/11/12122950/logo-m-01-150x150.png</url>
	<title>رائے &#8211; The Milli Chronicle</title>
	<link>https://millichronicle.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>بابری مسجد کا فیصلہ اور ہم</title>
		<link>https://millichronicle.com/2019/11/urdu-opinion-babri-masjid.html</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Millichronicle]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 09 Nov 2019 07:53:06 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[رائے]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://millichronicle.com/2019/11/urdu-opinion-babri-masjid/</guid>

					<description><![CDATA[صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی بابری مسجد فیصلے سے بہرحال مسلمانوں کے دل زخموں سے چور چور ہیں ،]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p style="text-align:right"><em>صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی</em></p>



<p style="text-align:right"><strong>بابری مسجد فیصلے سے</strong> بہرحال مسلمانوں کے دل زخموں سے چور چور ہیں ، مگر ضمیر اس ناانصافی کی صدا کہاں لگائے ۔؟</p>



<p style="text-align:right"><strong>مُسلمانو! دربار الہی کی طرف رجوع کرو</strong> ، مسجدوں کو آباد کرو ،شرک سے توبہ کرو ، اللہ والے بن جاؤ ، متحد ہو جاؤ ، وہ اقتدار کے نشے میں چور ہیں ۔</p>



<p style="text-align:right"><strong>حالانکہ تم اللہ سے جس چیز کے امیدوار ہو</strong> وہ نہیں ہیں، اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔ سورہ نساء 104</p>



<p style="text-align:right"><strong>پھر صبرکرو</strong>  جیسا کہ عالی ہمت رسولوں نے کیا ہے اور ان کے لیے جلدی نہ کرو، گویا کہ وہ جس دن عذاب دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو انہیں ایسا معلوم ہو گا کہ ایک دن میں سے ایک گھڑی بھر رہے تھے، آپ کا کام پہنچا دینا تھا، سو کیا نافرمان لوگوں کے سوا اور کوئی ہلاک ہوگا؟۔ سورہ احقاف ۔35</p>



<p style="text-align:right"><strong>اور اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے</strong>، اور تمہاری حمایت او مدد کے لیے اللہ ہی کافی ہے۔ سورہ نساء 45</p>



<p style="text-align:right"><strong>پس صرف اور صرف اللہ</strong> ہی سے لو لگاو،صرف اسی کے آگے سر کو جھکاو ، اور اللہ کے واسطے مسجدوں کو ویران مت چھوڑو ۔<br></p>



<p style="text-align:right">اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔</p>



<p></p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>فیصلہ جو بھی ہو لیکن اقلیتوں کے تحفظ کی ضمانت کون دے گا؟</title>
		<link>https://millichronicle.com/2019/11/tariqi-faisala-urdu.html</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Millichronicle]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 07 Nov 2019 16:24:00 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[رائے]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://millichronicle.com/?p=5008</guid>

					<description><![CDATA[شہاب مرزا 17 نومبر کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی سبکدوش ہونے والے ہیں سبکدوشی سے قبل چیف]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><strong>شہاب مرزا</strong></p>
<p>17 نومبر کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی سبکدوش ہونے والے ہیں سبکدوشی سے قبل چیف جسٹس گوگوئی بابری مسجد ملکیت معاملے کا فیصلہ سنائیں گے اس لیے 17 نومبر سے قبل بابری مسجد کا فیصلہ ہونے والا ہے چیف جسٹس کہ یہ فیصلہ تاریخی فیصلہ ہوگا کیونکہ یہ معاملہ برسوں سے ہندو مسلم کے درمیان تنازعہ کا سبب رہا ہے ان برسوں میں ثالثی کی بھی کوشش کی گئے لیکن سبھی بے نتیجہ ثابت ہوئی پچھلے دنوں مولانا سید سلمان ندوی نے ملک کے مسلمانوں سے گہار لگائی تھی کہ مسلمان بابری مسجد کی ضد چھوڑ دے اور اسے اپنی جگہ سے کہیں اور منتقل کردے مولانا سلمان ندوی کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنا ایک جھوٹی تسلی کے سوا کچھ نہیں!</p>
<p>انہوں نے یہ بھی یاد دلایا تھا کہ 1990 میں شروع کی گئی رام مندر تحریک میں بابری مسجد شہید بھی ہوئی اور اس کے بعد مسلمانوں کو قتل عام ہوا وہ تصور سے باہر ہے حتاکہ وہ ملک کے لئے ناسور بن گیا ہمارا مقصد مولانا کی تجویز کی حمایت ہرگز نہیں لیکن اس معاملے کو کہیں نہ کہیں انجام تک پہنچانا ضروری ہے اور یہ ملت کے اکابرین کرسکتے ہیں ورنہ اس ملک میں مسلمان یونہی تختہءمشق بنتے رہیں گے اب تصویر کا دوسرا رُخ دیکھئے بابری مسجد کیس کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے اس سے قبل ملک بھر میں امن و امان قائم رکھنے اور صبروتحمل کے لیے میٹنگ کا انعقاد ہو رہا ہے اردو اخبارات علماء و اکابرین ملت اور مختلف تنظیمیں جس طرح سے اپیل کر رہی ہے اگر جائزہ لیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ اس ملک کا مسلمان اشتعال انگیزی اور ہنگاموں کے سوا کچھ اور جانتا ہی نہیں!</p>
<p>جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں امن و امان کی برقراری میں مسلمانوں کا اہم رول رہا اس بات کی تاریخ گواہ ہے کہ فسادات جھیل کر، لاشیں اٹھا کر، نقصان برداشت کرکے، جلی ہوئی بستیاں دیکھ کر بھی مسلمانوں نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لیا کوئی بھی اخبار اٹھا کر دیکھ لیجیے جعلی سرخیوں میں اپیلیں کے کی جارہی ہے اور مسلمانوں کو صبر و تحمل سے کام لینے کا مشورہ دیا جارہا ہے دستور ہند پر کامل یقین نہ ہونے کی دہائی دی جارہی ہے ان خبروں اعلانات اور اجلاس کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ شہر و ملک کے امن و امان کو مسلمانوں سے خطرہ ہیں جس طرح گھر کے بڑے شریر بچوں کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں وہی رول علماء ائمہ اور تنظیمیں ادا کر رہی ہیں اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا واقعی حقیقی صورتحال ویسی ہی ہے جیسے ظاہرکیاجارہاہے اس کے پس پردہ کچھ اور محرکات ہے صرف علماء، ائمہ اور مسلمانوں کو ہی نصیحت کی جارہی ہے؟</p>
<p>ہم بھی امن چاہتے ہیں لیکن یکطرفہ نصیحتیں کارگر ثابت نہیں ہوتی جو نصیحتیں اقلیتی طبقے کو کی جارہی ہے وہ اکثریتی طبقے کے ساتھ بھی ہونا چاہیے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ملک اکثریتی طبقے نے پہل کرکے اقلیتی طبقے کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا کہ فیصلہ جو بھی ہو ہم گنگا جمنی تہذیب داغدار نہیں ہونے دیں گے۔</p>
<p>اس اپیل مہم میں فوٹو ماسٹر اور اشتہار باز لیڈروں کے لئے سنہرا موقع ثابت ہوا اس اپیل کے آڑ میں شو بازی شروع کی گئی ان اپیل کرنے والوں کو اقلیتوں کے تحفظ کی کوئی فکر نہیں ہے وہ صرف نام نمود اور اپنی سیاسی بقا کے لیے فکر مند ہے۔</p>
<p>سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل مسلمانوں میں اپنے تحفظات کو لے کر سراسیمگی پھیلی ہوئی ہے کہ فیصلہ جو بھی ہو لیکن اقلیتوں کے تحفظ کی ضمانت کون دے گا؟ فیصلہ کیا ہو گا یہ کسی کو معلوم نہیں لیکن ماضی میں مسلمانوں پر بابری مسجد تنازعہ کو لے کر جو حالات گزرے ہیں اس کا خوف ان پر ابھی تک طاری ہے۔</p>
<p>سپریم کورٹ ہمارے ملک کے انصاف دینے والی عظیم عدالت ہے اس لیے کورٹ کا جو بھی فیصلہ ہو اس کا احترام ہونا چاہیے اقلیت بے چین ھے کے کہی اس فیصلے کی آڑ میں پھر سے فرقہ پرستوں کے ظلم کا شکار نہ ہوجائے لیکن پھر بھی مسلمان اس اراضی کا حل چاہتے ہیں تاکہ یہ مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے بہرکیف کہنا یہ تھا کہ ملک کی عدالت عظمیٰ فیصلہ کرنے والی ہے اور مسلمان ملک کے دستور اور عدلیہ پر اعتماد کرتا رہیگا سوال یہ اٹھتا ہے کہ مآب لنچنگ طلاق ثلاثہ اور یکساں سول کوڈ کے نفاد کی باتیں کرنے والوں پر لگام کون کسیگا ایسے حالات میں جب مسلمان خوف و ہراس کے ماحول میں ہے انہی سے امن کی برقراری کی یقین دہانی مانگی جا رہی ہے تاہم اقلیتوں کے تحفظ کی ضمانت کو دیگا کیا یہ حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے مسلمان دستور اور عدلیہ کے روزِ اوّل سے پابند ہے اور جب تک ملک میں رہیں گے ملک کی عدلیہ کا احترام کرتے رہیں گے مسلمانوں کا مقصد ہمیشہ سے ملک میں امن و امان اور خوشحالی کا رہا ہے اور انشاء اللہ آگے بھی رہے گا</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>معافی نامہ – تھوک کے چاٹنا</title>
		<link>https://millichronicle.com/2018/12/mafi-nama-badaruddin.html</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Millichronicle]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 27 Dec 2018 22:47:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Opinion]]></category>
		<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[رائے]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://millichronicle.com/2018/12/%d9%85%d8%b9%d8%a7%d9%81%db%8c-%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%aa%da%be%d9%88%da%a9-%da%a9%db%92-%da%86%d8%a7%d9%b9%d9%86%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[بدرالدین اجمل مسلکی عصبیت کے زہر میں ڈوبا انسان ، علم سے عاری ، نسیان کا مریض ، سیاست کا]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>بدرالدین اجمل مسلکی عصبیت کے زہر میں ڈوبا انسان ، علم سے عاری ، نسیان کا مریض ، سیاست کا فقیر ، جھل مرکب کا خمیر ، بیوقفوں کی دنیا کا نیا نام ، بدرالدین احق صاحب ! آپ اس طرح اگر پارلیامنٹ میں زہر اگلیں گے ، تو سلفی کم دھشت گرد نکلیں گے ،</p>
<p>قاسمیوں کی لسٹ زیادہ لمبی ہوجاٸے گی ، جو ابھی دھشت گردی کے الزام میں جیلوں میں سڑ رہے ہیں ، اور قاسمی ہی کیوں تبلیغی بھی نہیں بچیں گے ، جماعت اسلامی وغیرہ بھی نہیں بچیں گے ، مگر ہمارا اس بارے میں موقف یہ ہیکہ دہشت گردی کا نہ کوٸی دھرم و مذھب ہے نہ مسلک ،</p>
<p>آپ ایک عورت کا جواب پارلیامنٹ میں نہیں دے پاٸے کہ قرآن سے کوٸی دلیل دیجٸے ، دلیل تو نہیں دیٸے جناب ذلیل ضرور ہوگٸے ، آپ نے کہا میڈم میں آپ سے اکیلے میں بات کروں گا ، سلفیت کو سرعام رسوا کرکے آپ ایک عورت سے اکیلے میں بات کرنے کی دعوت دے رہے ہیں ، شرم سے ڈوب مرنا چاہیٸے ،</p>
<p>لوگ ساٹھ سال پہ سٹھیا جاتے ہیں مگر اتنا بھی نہیں جتنا یہ بڈھا ، یا آپ اکیلے ، جاکر میچ فکسنگ کرنا چاہ رہے ہیں کیا ؟ پوری حنفیت نے مل کر طلاق و حلالہ کے مسٸلہ میں ساری امت مسلمہ کو رسوا کر کے رکھ دیا ، روزآنہ ٹی وی چینلوں پہ مولوی منہ بسوڑے بھاگتے رہے ،</p>
<p>مگر حنفیت بچانے کے چکر میں یہ توفیق نہیں ہوٸی کہ کہہ دیں ہمارا مسٸلہ قرآن وسنت کے خلاف ہے ہم غلطی پر ہیں ، اس مسٸلے سے رجوع کرتے ہیں ، اور یہ جرأت تقلیدی کبھی نہیں کرسکتے کیونکہ تقلید کا اندھیرا لامتناہی ہے ، اور اب یہ سلفیوں کو محبت نامہ لکھ کر معافی مانگ رہے ہیں کہ دھشت گردوں کا یہ تیس فیصد اوٹ بھی ہم سے بھاگ نہ جاٸے ،</p>
<p>اس کے لٸے تو سب کا جنون فوراً بھاگ جاتا ہے ۔ مگر یاد رکھٸے جس مسلم پرسنل لا ٕ کو قرآن نہ ماننے کی وجہ سے اتنی بڑی ذلت و رسواٸی کا سامنا کرنا پڑا ، آپ بھی ذلت و رسواٸی سے نہیں بچ سکتے جب تک کہ صدق دل سے اللہ کے حضور آپ توبہ نہ کریں ، یہ معافی تو اھل حدیثوں کی دل آزاری کی وجہ سے ہے ، اور ہمیں اس کی ذرہ برابر بھی پرواہ نہیں کیونکہ یہ الزام ہمارے اوپر نیا نہیں ، اھل حدیثوں کی قربانیوں کو چھپایا جاتا ہے اور چند سرپھروں کی غلطیوں کو ان کے اوپر لاکر تھوپ دیاجاتا۔ ہے ۔ مگر یاد رہے بارگاہ الہی میں بھی آپ کو جواب دینا پڑے گا ۔</p>
<p>تحریر : صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مسلمان خوش کس وجہ سے – کانگریس کی جیت یا بی جے پی کی ہار سے؟</title>
		<link>https://millichronicle.com/2018/12/musalman-khush-urdu.html</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Millichronicle]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 13 Dec 2018 05:12:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Opinion]]></category>
		<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[رائے]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://millichronicle.com/?p=1790</guid>

					<description><![CDATA[صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی ہاں اس ایلکشن سے ایک بات ضرور ثابت ہوگٸی کہ ہندوستان میں جمہوریت ابھی]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align:right;"><i>صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی</i></p>
<blockquote>
<p style="text-align:right;">ہاں اس ایلکشن سے ایک بات ضرور ثابت ہوگٸی کہ ہندوستان میں جمہوریت ابھی زندہ ہے</p>
</blockquote>
<p>مسلمانوں یا کہہ لیں سیکولر ھندوستانیوں کے خوشی کیوجہ کانگریس کی جیت یا بی جے پی کی ہار نہیں ، بلکہ خوشی اس ذھنیت کی ہار  کیوجہ سے ہے ،  جو ملک میں بدامنی ، فرقہ پرستی ، ھندتوادی ، ذھنیت کے سبب  مسلمانوں ، دلتوں ، بلکہ ہر وہ شخص جو ان کے اس ذھنیت کا مخالف ہے ، اسے  اینٹی نیشنل ، ھندو دشمن کہہ کر  موب لنچنگ کے ذریعہ موت کے گھاٹ اتارنے والے ، اور فسادیوں ، پلاتکاریوں کو شہہ دینے والوں کی  ہار کیوجہ سے ہے ،</p>
<p style="text-align:right;">مسلمانوں کیلٸے اگر ایمانداری سے کہا جاٸے تو بھاجپا اور کانگریس میں اتنا ہی فرق ہے جتنا کافر اور منافق میں ، یعنی کانگریس کی بعض  خطرناکیاں مسلمانوں کیلٸے  بھاجپا سے بھی سخت ثابت ہوٸیں ہیں  ، لیکن بھاجپا نے دیش کے امن و امان کو ہی ھندتوا اور ظلم و بربریت کی بھٹی میں جھونک دیا ہے ، اس کا بدیل کانگریس کے علاوہ کوٸی  نہیں رہا ، اس وجہ فرقہ پرستوں کی ہار خوشی کا باعث ہے ، ورنہ آزادی کے بعد سے اب تک مسلمانوں کی زبوں حالی کی ذمہ دار ، تعلیمی  سیاسی معاشی  حیثیت سے کانگریس ہی ہے ، اور آر ایس ایس جیسی کٹر پنتھی  ھندو تنظیموں کی  گود میں کھیل کر ہی کیاگیا ہے ، کانگریس ہی کی دین ہے کہ بھاجپا یہاں تک پہونچی ہے ، کہ دیش کا کونہ کونہ ظلم و بربریت ، موب لنچنگ ، بلاتکار  اور اس کے بعد بے رحمی سے قتل ، تعلیم یافتہ نوجوانوں  کا  معاشی قتل ، طلبا ٕ کا تعلیمی قتل ، کسانوں کا  زرعی قتل ، اور تجارت پیشہ لوگوں کا  تجارتی قتل ، سرعام ہورہا ہے ۔ اور شرپسندوں کے حوصلے بڑھے جارہے ہیں ۔</p>
<p style="text-align:right;">ہاں اس ایلکشن سے ایک بات ضرور ثابت ہوگٸی کہ ہندوستان میں جمہوریت ابھی زندہ ہے ، نفرت پھیلانے والوں سے مضبوط ابھی امن پسند ہیں ، اور جب تک ملک میں سبودھ سنگھ جیسے انصاف پسند انسپکٹر  موجود رہیں گے ملک کا امن باقی رہے گا ، جس طرح انہوں نے جان کی قربانی دے  کر ایک بڑے خون خرابے سے ملک کو بچا لیا ، یہ بہت بڑی بات تھی ، ورنہ سیاسی پالیسی کے تحت تبلیغی اجتماع کے موقع سے پوری پلاننگ کے ساتھ فساد کی غرض سے بلند شہر میں  گاٶ کشی کا ڈرامہ رچا گیا تھا ۔</p>
<p style="text-align:right;">ان حالات میں یہ الکشن لڑاگیا تھا اسی لٸے یہ فسادیوں اور امن پسندوں کا امتحان بھی تھا ، جس میں امن پسند ، ترقی پسند لوگوں کی کامیابی ہوٸی ۔</p>
<p style="text-align:right;">کانگریس کو چاہیٸے کہ ھوش کے ناخن لے ، پرانی غلطیوں سے سبق سیکھے ، انسانیت کو باقی رکھے ، دشمنوں کی چالوں کو سمجھیں ، کانگریسی دور میں جتنے بے گناہ  مسلمان  نوجوان جیلوں میں ڈالے گٸے سب اسی کم فہمی کا نتیجہ تھا ۔</p>
<p style="text-align:right;">اس لٸے اپنی پالیسیوں کو بدل کر سب کے حقوق کا پاس و لحاظ رکھتے  ہو ٸے کام کریں  ، تو اس ملک کو فرقہ پرستوں سے بچایا جا سکتا ہے اور ارتقا ٕ کی نٸی راہ دی  جاسکتی ہے ۔</p>
<p style="text-align:right;"><i>صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی الجبيل سعودی میں رہتے ہے، اور وہ مذہبی اور سماجی معاملات پر لکھتے ہے۔ </i></p>
<blockquote>
<p style="text-align:right;">خصوصی نوٹ: اس سیکشن میں لکھنے والوں کی طرف سے اظہار خیالات ان کے اپنے ہیں اور اس ویب سائٹ کی نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں.</p>
</blockquote>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>رائے : سعودی کی ترقی سے نفرت و حسد کی وجہ</title>
		<link>https://millichronicle.com/2018/12/saudi-dushmani-urdu.html</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Millichronicle]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 10 Dec 2018 08:27:59 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Opinion]]></category>
		<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[رائے]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://millichronicle.com/?p=1772</guid>

					<description><![CDATA[صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی انہیں سعودی کی ترقی سے نفرت و حسد ہے ، دلیل ; اچھی خبر]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;"><em>صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی</em></p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;">انہیں سعودی کی ترقی سے نفرت و حسد ہے ، دلیل ; اچھی خبر پہ خاموشی اور اگر کچھ شیطانی میڈیا بری خبر  اڑا دے تو یہ بھی انہیں کی طرح  لے اڑتے ہیں ۔</p>
</blockquote>
<p style="text-align: right;">سعودی عرب محمدی مشن کی طرف  رواں دواں</p>
<p style="text-align: right;">کچھ رضاخانی اور رافضی نما اخوانی سعودی عرب کے تعلق سے اخبارات اور شوشل میڈیا پہ بے بنیاد الزامات اور توحید دشمن ملک بتا کر لوگوں کے درمیان غلط شبیہ پیش کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں ، جیسے چور چوری کرکے خود ہی چور چور  چلاتا کہتا ہوا بھاگتا ہے کہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ وہی چور ہے ، اسی طرح یہ توحید اور  مملکة توحید سے بغض رکھنے والے ، ان بے بنیاد خبروں کے ذریعہ لوگوں میں  یہ بھرم  ڈالنا چاہتے ہیں ،کہ سعودی عیاش اور توحید دشمن ہیں ، یعنی سعودی آٸیزیشن کے ذریعہ جب سعودیوں کو  کام پہ لگایا جا رہا ہے ، تاکہ بیکاری سے  بچا کر ترقی کی راہ  پہ لگایا جاٸے  ، اور اس کے نتیجے میں کچھ بوڑھے غیر ملکیوں  کو ان کے اھل و عیال میں بھیجا جا رہا ہے ، تو اس چڑھ میں سعودی عرب پہ عیاشی کا لیبل لگا کر غلط تصویر پیش کر کے اپنی دشمنی کی آگ کو ٹھنڈا کر رہے ہیں ، قبروں ، درگاہوں کی خاک چھاننے والے ، ان پر رکوع و سجود میں گرنے والے ، ان سے استغاثہ و استعانت طلب کرنے والے ، مردوں سے وسیلہ طلب کرنے والے ،خمینی کا برتھ ڈے منانے والے ، سعودی عرب جو ان کی سخت مذمت کرتا ہے اور یہاں کے علما ٕ کے سب سے زیادہ  لکچرز  توحید کی اہمیت اور شرک کی مذمت پہ ہو تے ہیں   تو انھیں یہ توحید دشمنی دیکھاٸی دیتی ہے ، کیونکہ یہ ان کے شرکیہ اعمال سے بغاوت ہے ، ان کے شرک سے لوگ توبہ کرکے توحید کی راہ اختیار کر رہے ہیں ، ان کے گھورکھ دھندے جو اسلام کے نام پہ چل رہے تھے مندے پڑ رہے ہیں ، نذر و نیاز کے نام پہ جو عوام کو لوٹتے تھے ،  سعودی عرب سے جب توحید لے کر آتے  ہیں ،تو  ان کی  شرک کی دکانوں پہ تالا لگادیتے ہیں ، تو یہ انھیں توحید کا دشمن کہتے ہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">اور کچھ اخوانی بیچارے بڑے پیارے انداز سے  کہتے ہیں ، ہمیں سعودیہ سے محبت ہے  اس لٸے ہم تنقید کرتے ہیں ، واہ جناب! کیا میل ہے محبت اور تنقید کا ، اصلاً</p>
<p style="text-align: right;">انہیں سعودی کی ترقی سے نفرت و حسد ہے ، دلیل ; اچھی خبر پہ خاموشی اور اگر کچھ شیطانی میڈیا بری خبر  اڑا دے تو یہ بھی انہیں کی طرح  لے اڑتے ہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">ابھی حال ہی میں شاہ سلمان بن عبد العزیز کے فرمان پر حکومت نے  خلائی تحقیقات اور امن مقاصد کے لیے سائنس کے شعبے میں  تحقیقات کرنے کا معاہدہ طے کیا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">تدریسی امارت کو بڑھانے کیلٸے ابھی چند روز قبل 4 کروڑ سعودی ریال مختص کیا گیا جس میں 120 مدارس کی تعمیر کی جاٸے گی ۔ وغیرہ</p>
<p style="text-align: right;">ان تمام ترقیاتی خبروں کو چھپاکر سعودی شبیہ کو خراب کر نا اپنا  مسلکی فریضہ سمجھتے ہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">مگر الحمد للہ اس کا  اثر مخلصین پر بالکل نہیں پڑتا ۔</p>
<p style="text-align: right;">ہماری دعا ہے  یا الٰہ العلمین سعودی حکومت محمدی مشن کیطرف  ہمیشہ رواں دواں رہے اور اللہ کی مدد ان کے شامل حال رہے ۔ آمین</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
