فلسطینی مسئلہ کا فریب اور شریعت کی غلط تشریح

16 mins read

مصنف: تركي بن علي العويرضي۔ مترجم: آفرین بیگ۔

فلسطینی مسئلہ کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دشمنی کے تمام منصوبوں میں استعمال کیا گیا ہے

فلسطینیوں نے جو ریاستی منصوبہ فروغ دیا ہے وہ اسلامی نہیں ہے ۔ بلکہ ، وہ ایک سیکولر ریاست کی حمایت کرتے ہیں ، اور وہ ملحد بنیادوں کے کمیونسٹ اور بائیں بازو کے نظریات کو اپناتے ہیں۔

شریعت کے قوانین کے بارے میں غیر مسلموں کے منفی تاثرات اس غلط فہمی کا نتیجہ ہے جس میں کچھ گمراہ کن مسلمان ملوث ہیں ۔ خاص طور پر وہ مسلمان جو شریعت کے قوانین سے گہری لاعلمی کی وجہ سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا رجحان رکھتے ہیں۔ ان منحرف لوگوں نے جعل سازی سے شریعت کے مقدس متون کو تبدیل کیا ، سیاق و سباق کا ادراک نہیں رکھا اور نہ ہی عربی کے لسانی اشاروں کا احساس کیا – ان گمراہ کن انتہا پسندانہ رجحانات کی وجہ سے اسلام اور مسلمان مجروح ہوۓ ، اور شریعت کا تاثر ایک غیر انسانی قانون کے طور پر ابھرا ۔

 یہ بات اسلامی شریعت نے قائم کی کہ قرآن و سنت کے واضح نصوص کے مطابق ہی لوگوں کی جان و مال کو اولین ترجیح اور  بنیادی اصول کے طور پر محفوظ رکھا جاۓ ۔

لہذا اگر فلسطینی مسئلہ اور مسلم دنیا کے خطوں میں کشیدگی کے مستقل گڑھوں کا مشاہدہ کیا جاۓ تو یہ بات مکمل طور پر واضح ہو جاتی ہے کہ بنیادی طور پر اسلامی قانون کی خلاف ورزی اور غلط تشریح ہی غلط معلومات اور غلط نظریات کا سبب بنی ۔

یہ بھی اسلام کا ایک عظیم اور معجزاتی نقطہ ہے کہ ایمان پر مبنی نظام ، خدائی اخلاقی اقدار ، عام اور مخصوص قواعد کے باوجود بھی،  اسلام جدیدیت ، سائنس ، غیر مسلموں کے ساتھ بقائے باہمی اور اچھی تفریح ​​کے منافی نہیں ہے ۔ در حقیقت ، قرآن مجید اور سنت میں بہت ساری ایسی  عبارتیں موجود ہیں جو مستقل منطقی سوچ کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں ۔ سیکھنے ، غور و فکر ، زندگی کے حالات میں بہتری ، اور امن و استحکام کے حصول کی ترغیب دیتی ہیں۔

سلفیت کا نام غلط استعمال ہوا ہے اور کچھ جاہل مسلمان اسے ایک فرقے کی حیثیت سے استعمال کررہے ہیں۔  بہرحال ، یہ کوئی فرقہ نہیں ہے۔  یہ ہی وہ  اصلی طریقہ کار ہے جس پر اصل میں اسلام انحصار کرتا ہے۔  اس کا انحصار قرآن و سنت اور رسول اللّٰه محمّد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، صحابہ کرام اور اس سے قبل کے صالحین مسلمانوں اور ان کے بعد کے نیک مسلمانوں  پر ہے۔

سلفیت مقصدیت کی نمائندگی کرتا ہے جو اسلام کا بنیادی خاصہ ہے ۔اسلام  جسے اللّٰه رب العزت نے ناانصافی ، فرقہ واریت ، نسل پرستی اور انتہا پسندانہ نمونوں سے بالاتر رکھا ۔ تاكہ لوگوں کو أن دھوکہ دینے والے نمونوں سے بچنے میں مدد مل سکے ، جو مذہبی مقدس متون کو تبدیل کرکے اپنے سیاق و سباق کے علاوہ اس کا استعمال کرتے ہیں ۔

استحکام ، سلامتی ، انفراسٹرکچر ، ترقی ، معیشت ، فکر اور ثقافت کے شعبوں میں زیادہ تر نام نہاد اسلامی ممالک پیچھے ہیں۔

بہر حال ، ان ممالک میں سے “کچھ” حکومتیں اور انکی عوام  سعودیوں کو لیکچر دینے پہ وقف ہیں ، کہ سعودیوں کو کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں۔

جبکہ جی 20 میں سعودی عرب 18 ویں نمبر پر ہے ، اور مقابلہ جات اور کاروبار میں آسانی جیسے بہت سے ترقیاتی پہلوؤں میں جی 20 کے کئ ممالک سے آگے ہے ، پیٹنٹ میں دنیا میں 25 ویں نمبر پر ہے ، اور اس میں جرائم کی شرح بھی کم ہے۔

 کچھ مطالعہ مراکز کے مطابق ، سعودی عرب دنیا کا پانچواں طاقتور ترین ملک سمجھا جاتا ہے۔

گمراہ مسلمان سعودی عرب سے مستقل طور پر دشمنی کرتے رہے ہیں ۔ حلانکہ یہ دنیا کی واحد ریاست ہے جو شریعت کو قانون سازی کا واحد ذریعہ سمجھتی ہے، اور توحید کو قبول کرتی ہے، اور شرک پر پابندی عائد کرتی ہے ، جبکہ بیشتر نام نہاد اسلامی ملک سیکولرازم کو اپناتے ہیں۔

 یہاں معاملہ یہ ہے کہ سعودی طریقہ کار ہمیشہ مختلف منحرف نمونوں کو بے نقاب کرتا رہا ہے۔

جہالت اور جنونیت کی وجہ سے ، گمراہ مسلمان توحید پسندی اور شریعت کو اعلی مقصد معیار کی حیثیت نہ دیتے ہیں اور نہ ہی پرواہ کرتے ہیں ۔ وہ جائز اسلامی ترجیحات کو نظرانداز کرتے ہیں ۔ اور وہ اپنے ممالک اور معاشروں کو شرک ، سیکولرازم ، جنسی بدکاری ، شراب اور پسماندگی سے نکالنے پر توجہ نہیں دیتے ۔ اگر وہ حقیقی اسلام میں سنجیدگی سے دلچسپی لیں تو اپنی تمام زندگی اسی میں مصروف رہیں گے۔

لیکن وہ ماتحت معاملات یا ان معاملات میں مشغول رہتے ہیں جو ان کے قانونی اور اسلامی اختیار سے باہر ہیں ، یا ایسے معاملات جن کی مرکزی حیثیت اور اہمیت نہیں ہے۔ جیسے کہ فلسطین ، کشمیر ، ایغور ، یمن ، عراق ، شام ، لیبیا ، افغانستان ، صومالیہ۔

اسلام (سلفیت: اصل اسلام) پر عمل کرنے میں بری طرح ناکامی ہی نے ان ممالک کو بھڑکایا اور انہیں پیچیدہ مسائل اور سرگرم متنازعہ علاقوں میں بدل دیا۔

ان کے اپنے ملک کا نظام توحید کو اہمیت نہیں دیتا جو  اسلامی اصول اور شریعت کا سب سے اہم اور اولین ستون ہے ۔

 مختلف ممالک کی فہرستوں میں ان کا ملک عالمی سطح پر پیچھے ہے اور آپ (سعودی عرب جی 20) کا احترام نہیں کرتے ؟ وہ واحد ملک ہے جس نے توحید اور شریعت دونوں کو منظم اور مقبول طریقے سے قبول کیا اور تبلیغ کی ۔  تو پھر وہ ممالک یہ دعویٰ کیسے کرسکتے ہیں کہ انہیں حقیقتا اسلامی مقاصد کی پروا ہے ، یا جن مضامین میں ان کی دلچسپی ہے وہ اہم اسلامی اسباب اور فرض ہیں؟

بدقسمتی سے ، یہ گمراہ مسلمان بگڑے ہوئے نظریات سے  سوچتے ہیں – انکے غیر دانشمندانہ نمونوں اور طریقوں کی وجہ سے دنیا میں اسلام کی مذمت ہوتی ہے ۔ وہ سعودی عرب میں موجود حرامین کی حفاظت اور سیکورٹی سے زیادہ فلسطینی مقاصد کے لئے زیادہ تشویش ظاہر کرتے ہیں ۔ سعودی عرب جو کہ قبلہ اول، وحی کا گہوارہ ، عظیم نبی محمد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم  کی آرام گاہ ، وہ واحد ملک ہے جو توحید اور شریعت پر قائم ہے ۔

بلکہ یہ گمراہ مسلمان سعودی عرب اور دیگر مسلمانوں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔  وہ مملکت توحید کے خلاف مستقل طور پر متحد اور اکساتے ہیں۔  وہ ہر اس خطرے سے خوش ہوتے ہیں جس سے سعودیہ کو سامنا ہو ۔ غلط عنوانوں اور جعلی دلیلوں کے تحت وہ اسلامی ہونے کا دعوی تو کرتے ہیں – حلانکہ ان کے لقب اور دلائل دار حقیقت آسان ترین اسلامی قوانین اور قرآن کے منافی ہیں۔

کیسے یہ گمراہ لوگ مسلمان ہونے کا دعویٰ  کرسکتے ہیں؟ اسلامی اسباب پر اپنے جعلی دکھاوے پر کس طرح فخر کرسکتے ہیں؟ حلانکہ وہ اسلامی اصول کا  پہلا اور اہم ترین فرض – توحید اور شریعت – کی پاسداری تک نہیں کرتے ؟

اس بیماری کی سب سے بڑی علامت اسلامی حکمرانی اور خلافت کا وہ فریب ہے جس نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے ۔

 یہ دعوی کوئی نہیں کرتا ہے کہ مملکت سعودی عرب کامل اور بےداغ ہے۔  کیونکہ کمال اور فضیلت نا کبھی تھی اور نہ کبھی ہوگی سوائے اللّٰه کے رسول محمّد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم  کے دور کی ۔ تو پھر آج کے دور میں اسلام کی ترجیحات کو نافذ کرنے میں یہ ریاست کا بہترین نمونہ ہے ، جو مسلمانوں کی بھلائی ، حج میں ‎اللّٰه رب العزت کے مہمانوں کی خدمات ، اور قرآن و سنت کی تبلیغ کے لئے وقف ہے ۔ اور نہ ہی اسرائیل سے اسکے کوئی تعلقات ہیں  ۔

بہت سے مسلمان ناکارہ عثمانی ریاست کی عظمت بیان کرتے ہیں اس خُمار میں کہ وہ خلافت کا عکاس تھے ، حالانکہ وہ مشرکیت کا مظہر تھے اور مظلوم مسلمانوں اور غیر مسلموں پر ظلم و ستم ڈھاتے تھے ۔

انہوں نے قبروں اور مزارات کی تعمیر اور تعظیم کی – اور توحید ، شرعی علم اور دو مقدس مساجد کی کبھی پرواہ نہیں کی ۔ اور بیت المقدس کو بھی کھنڈرات میں چھوڑ رکھا تھا ۔

عثمانیوں نے ایک فتویٰ جاری کیا تھا جس میں کتابوں کی چھپائی پر پابندی عائد تھی ، کیونکہ انکو اپنے اختیار میں توسیع کرنے کی فکر تھی۔  انکے کسی ایک سلطان نے کبھی فریضہ حج ادا نہیں کیا۔

اس سے بھی بڑھ کر ، یہاں نۓ نویلے عثمانیوں کی بہتات ہے جو ترکی کی تعریف کرتے نہیں تھکتے ۔ حلانکہ وہ ایک ایسا ملک جو آئینی طور پر سیکولر ہے ، جسم فروشی اور جنسی بے حیائی کی اجازت  دیتا ہے ، اور قبروں اور مزارات سے بھرا ہوا ہے جن کی پوجا کی جاتی ہے ، اور اسرائیل کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں۔

گمراہ ہوے مسلمان آج ایران کی مشرک اور دہشت گرد حکومت کی حمایت کے لئے تیار ہیں – حد یہ ہے کہ  عراق ، شام ، لبنان ، یمن ، میں موجود اس کے دہشتگرد گروہوں کی حمایت میں جواز پیش کرتے ہیں –  ایرانی  حکومت توحید ، صحابہ اور سنت کے خلاف بغض رکھتی ہے۔  وہ پرامن مسلمانوں کے خلاف نفرت کو فروغ دیتے ہیں ، خاص طور پر اس مملکت کے خلاف جو واحد توحید اور سنت کا نفاذ کرتا ہے۔

کیا وہ واقعی مسلمان ہیں؟

آج کچھ مسلمان اپنی مقامی , اسلامی اور قومی ذمہ داریوں میں ناکامی کا الزام سعودی عرب پر ڈالنے کے لئے تیار ہیں۔ جبکہ ان کے اپنے ممالک لاعلمی ، مشرکیت ، سیکولرازم ، انتہا پسندی ، دہشت گردی ، نفرت ، جھوٹ ، فریب ، دھوکہ دہی ، جارحیت ، بدعنوانی ، پسماندگی اور اخلاقی زوال کا شکار ہیں۔

نام نہاد اسلامی دنیا میں بڑے پیمانے پر گمراہ مسلمان مسلسل سعودی عرب پر صہیونیت کا جھوٹا الزام عائد کرتے ہوے صہیونی ایجنٹ ہونے کا پروپیگنڈا کرتے ہیں ۔  یہ مغربی ذہانت کی جعلسازی کے سوا کچھ نہیں ہے ۔

ایک سلجھی منطق اور حقیقی مسلمان کے طور پر سوچیۓ :  کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی غیر مسلم توحید اور شریعت قائم کرے؟  کیا کوئی غیر مسلم ایک ایسی ریاست تعمیر کریں گے جو توحید اور شریعت کو قبول کرے اور اس کی تائید کرے؟

نیز ، بہت سے گمراہ اور نام نہاد مسلمان سعودیوں کو وہابیوں کے طور پر بیان کرنا پسند کرتے ہیں – ایک ایسا کلنک جو عثمانی قبضہ نے عربوں سے دشمنی میں  ایجاد کیا – کیوںکہ عرب انکی بیرونی مداخلت کے خلاف لڑ رہے تھے اور صوفیانہ عثمانیوں کو ملک بدر کیا ۔

کیونکہ توحید  ہی سعودی عرب کی بنیاد ہے ، جب سے اس ریاست کا آغاز 1744 میں ہوا – وہ سعودیوں کو مختلف نامناسب القاب اور بیانات سے تعبیر کرنا پسند کرتے تھے ، جو نسل پرستی کی حد اور اسلام سے دوری کی علامت تھی۔

میں واضح طور پر آپ کو بتاتا چلوں: گمراہ مسلمان شیطان کے بہترین سپاہی ہوتے ہیں ، کیونکہ وہ توحید اور سنّت کا احترام نہیں کرتے اور نہ ہی وہ مملکت توحید سعودی عرب کا احترام کرتے ہیں ، وہ واحد ملک جو ان کو گلے لگاتا رہا – وہ اس پر حملہ اور برائی کرنے سے باز نہیں آتے۔

 اور نہ ہی انہوں نے خود کبھی ایسی کوئی ریاست بنائی جو خالصتا مادہ پرست پہلو سے بھی قبل احترام کہلائی جا سکے ۔ 

کیا وہ اس حماقت اور بیوقوفی میں جینا پسند کرتے ہیں؟

 اسلام – افراد اور اقوام کے لئے طرز زندگی کا ایک ایسا جامع نظام ہے جس کا انحصار سب سے پہلے توحید  (پہلی مطلق قدر) ، پھر اسلام کے ستونوں پر ، پھر ایمان (ٹھوس عقیدے) اور أخر میں طرز عمل پر ہوتا ہے ۔ ایک ایسے  وسیع تر قیمتی نظام کے تحت ، قواعد جو باقاعدہ جائز مقاصد کے لئے ہوں ۔

اور یہ ہیں وہ جائز مقاصد:

اسلام کی حفاظت (جو توحید پر مبنی ہو)۔
لوگوں کی زندگیوں کی حفاظت۔
ذہن کی حفاظت۔
نسل کی حفاظت۔
مال اور املاک کی حفاظت۔

دنیا میں کتنے ممالک ہیں کہ جو :

آئینی طور پر توحید پر عمل درآمد کرواتے اور شرک کو روکتے ہیں ؟
  انسانی زندگیوں کو مادی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں ؟
قوم کے ذہنوں کو شراب ، منشیات اور تباہ کن نظریات سے محفوظ رکھتے ہیں ؟
 صحیح قواعد و ضوابط ، اچھے انفراسٹرکچر اور پائیدار ترقی کے ذریعے مال اور املاک کی حفاظت کرتے ہیں ؟
  زنا اور جنسی بدکاری کو جرم مانتے ہیں ؟

یہ اسلام کی پہلی ترجیحات ہیں

پھر مندرجہ ذیل ترجیحات کے بعد ، اسلام میں کردار اور ذمہ داریوں کی تقسیم اور درجات ہیں – جو فرد ، کنبہ ، معاشرے اور ریاست کو محفوظ رہنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

مرد کے اپر اپنے گھر والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی اچھی طرح سے دیکھ بھال کرے – پھر عورت کے لئے اپنے اندرونی خاندانی معاملات کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی اچھی طرح سے دیکھ بھال کرے ۔ وزارت میں وزیر ، منیجر اپنے شعبے میں ، تاجر یا کاروباری عورت اپنے اپنے اسٹیبلشمنٹ یا کمپنی میں وغیرہ۔

بادشاہ ، صدر یا سپریم لیڈر سب سے پہلے اپنی ریاست اور عوام کا ذمہ دار ہوتا ، تاکہ انکا اچھی طرح سے خیال رکھا جا سکے ۔

اور تمام لوگ — بطور فرد یا مجموعی طور پر — مقامی مروجہ قوانین کے مطابق ، اپنی ریاست ، آزادی اور سرحدوں کے ذمہ دار ہیں۔  سعودی عرب میں جو کچھ ہوتا ہے اس کے لئے کوئی پاکستانی ذمہ دار نہیں ہے ، اور مصر میں ہونے والے واقعات کا سعودی ذمہ دار نہیں ہے ، لبنان میں ہونے والے واقعات پر اماراتی ذمہ دار نہیں ہیں ، اور انڈونیشیا میں ہونے والے واقعات کے لئے مراکش ذمہ دار نہیں ہے۔

حکمراں ، قائدین اور شہری اس بات پہ حق بجانب ہیں کہ ان کے ملک میں کیا فیصلے ہوتے ہیں ۔ اگر حکمران  نے کسی مخصوص پالیسی کا فیصلہ کیا ہے ، تو پھر آپ کو خلاف ورزی کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ لہذا آپ کی  رائے کی درستگی سے قطع نظر ، آپ کو سننا ہے اور اطاعت کرنی ہے – آپ مناسب طریقوں سے تنقید کرنے کے اہل ہیں – اور یہ اسلامی قانون کے مطابق قرآن و سنت میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے ،یا پھر ابتدائی سلف صالحین علماء کے عمل سے ۔

شریعت کے مطابق ، ریاست کا سربراہ (بادشاہ یا صدر) یہ فیصلہ کرنے کا مجاز ہے کہ کسی دوسرے ملک میں لوگوں کی مدد کرنا ممکن اور جائز ہے یا نہیں ۔ اور وہی یہ فیصلہ کرنے والا ہے کہ کس طرح اور کس قسم کی مناسب امداد کرنی ہے ۔ اور کون سے قانون ساز ، نگران اور ایگزیکٹو اتھارٹی اس پر عمل درآمد کرنے کے مجاز ہوں گے ۔

میں یہ تفصیلی معاملات جان بوجھ کر پیش کررہا  ہوں ، کسی کو الجھانے کے لئے نہیں – بلکے اس لئے کہ بہت سارے مسلمان اسلام سے لاعلمی ، جہالت اور آسان ترین اسلامی اصولوں سے مطلق غفلت میں مبتلا ہیں – یہاں تک کہ معمول کے ذاتی مفادات کو سنبھالنے میں بھی غفلت کا شکار ہیں ، لیکن بات وہ خلافت کی اور  فلسطین اور کشمیر کو آزاد کرنے کی اور امریکہ ، چین اور صیہونیت کا مقابلہ کرنے کی کرتے ہیں ۔

اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ لندن ، پیرس ، برلن ، ویانا ، واشنگٹن ، مونٹریال ، بیونس آئرس ، بیجنگ اور ماسکو — عیسائیت ، سیکولرازم اور الحاد — کے دارالحکومتوں میں رہنے والے کچھ گمراہ مسلمان توحید اور شریعت پہ قائم اور اسلام کے گہوارے سعودی عرب پر تنقید کرنے اور تہمت لگانے کو اپنا حق سمجھتے ہیں ۔ اور  اس کی مخالفت اسلام کے بہانے کرتے ہیں ۔

کسی بھی ملک کے مسائل کا حل قرآن و سنت کے واضح مقدس متون پر انحصار کے ذریۓ اور ترجیحات کے مطابق شریعت اور اسلامی پالیسی پر عمل کرنا ہے۔

اگر آپ کسی مسلمان ملک میں رہتے ہیں ، تو آپ نیک الفاظ اور شائستگی سے ، مناسب منصوبہ بندی کے ذریعے اپنے ملک کی اصلاح کے لئے اپنی پوری کوشش کریں ۔ اور اصلاح و شعور اجاگر کرنے کے لئے ایک چلتا پھرتا نمونہ بنیں۔

اور اگر آپ کسی غیر مسلم ریاست میں رہتے ہیں – اور اگر آپ کر سکتے ہوں، تو آپ کو چاہئے کہ سب سے پہلے  اپنے ملک اور اپنی مسلم کمیونٹی میں واپس جایئں اور وہاں سے آغاز کریں ۔

اگر اب آپ کا تعلق ایک غیر مسلم ریاست سے ہے ، جہاں  آپ مستقل طور پر رہتے ہوں ، تو آپ کو اس کے قوانین کا احترام کرنا چاہئے ۔ اور لوگوں کو اس شائستگی سے اسلام کی دعوت دینا چاہئے جس طرح وہاں کے قومی قوانین اجازت دیتے ہوں ۔ اور یہ ہرگز جائز نہیں کہ آپ اپنے غیر مسلم رہائشیوں کو مشتعل کریں یا ان کی ثقافت ،  مقدّسات اور علامتوں کی توہین کریں ۔

فلسطینی مسئلہ

چلیں دوبارہ فلسطینی مسئلہ کی طرف ۔ جہاد کے اسلامی قوانین واضح اور شفاف ہیں ۔ لہذا اگر فلسطینی فوجی طاقت سے نہیں جیت سکتے تو گناہوں سے بچنے کے لئے انسانی جانوں کو بچانا لازم ہے ۔ اللّٰه رب العزت کسی کی طاقت سے زیادہ اس کی روح پر بوجھ نہیں ڈالتا ۔

ایسی صورتحال میں ، جہاں فتح حاصل کرنے میں ناکامی کے زیادہ امکان موجود ہوں ،تو پھر وہاں جان و مال کو بچانے کے لئے امن قائم رکھنا اسلامی ذمہ داری ہے۔

اس اصول کا اطلاق ۔۔ فلسطین ، کشمیر ، ایغور ، لیبیا ، شام ، عراق ، یمن اور افغانستان اور ہر اس جگہ پر کیا جاسکتا ہے جہاں مسلمان جنگ اور قبضے کی پریشانی سے دوچار ہیں ۔ اس ملک کے عوام کی بنیادی ذمہ داری ہے ، کہ غیر یقینی صورتحال میں فتح کی توقعات کو غالب نہ انے دیں ۔

درحقیقت ، اللّٰه تعالٰی کا قانون سیاسی تنازعات اور سیاسی تبدیلیوں کو منع کرتا ہے سوائے اس کے کہ شرعی اصول و ضوابط کے مطابق ہوں ، تاکہ تبدیلی بہتری کے لئے ہو ۔  تاکہ تبدیلی لانے کے نتیجے میں اس سے بھی بدتر نتائج یا تباہ کن واقعات پیدا نہ ہوں جیسے انقلابات ، مظاہرے ، ہجوم احتجاج اور لامتناہی جنگیں ۔

میں واضح طور پر اور پر زور طریقے سے کہنا چاہتا ہوں

فلسطین مسئلہ اسلام کا بنیادی مسئلہ نہیں ہے ۔ اس کا  تعلق نام نہاد لیجیٹمیٹ اسلامی پالیسی سے ہے ، جو ریاست کے فیصلوں کے نتیجہ میں توقع شدہ فوائد اور نتائج کا اندازہ اور جائزہ لینے کے لئے بنتے ہیں۔

اور اللّٰه کی طرف سے رحمت ہے ۔ شریعت کا سب سے اہم مقصد لوگوں (مسلمانوں اور غیر مسلموں) کی جانوں کی حفاظت کرنا ہے – اور اللّٰه رب العزت  نے اپنی رحمت کی مطلق حقیقت کو قائم کیا جب اللّٰه نے کہا

اللّٰه کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا .القرآن ، سوره البقرہ – آیات  286

رسولُ اللّٰه صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم  نے فرمایا: [ اگر میں نے آپ کو کچھ کرنے کا حکم دیا ، تو اس میں سے جتنا ہو سکے کرو]  – صحیح البخاری 7288 ۔

اگر آپ کے ملک کی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ وہ عسکری ، سیاسی یا معاشی طور پر دوسرے مسلمانوں کی مدد کرنے سے قاصر ہے تو آپ کو اس کا احترام کرنا چاہئے – اور  مقامی قانونی طریقوں سے انکی مدد اور انکی حمایت  جاری رکھیں جو اسلامی قانون کے اصولوں کے منافی نہیں ہوں ۔

سعودی عرب ، پاکستان ، مصر ، انڈونیشیا ، برطانیہ ، فرانس ، امریکہ ، چین ، روس ، مراکش اور جنوبی افریقہ میں مقیم مسلمان  ۔۔۔ آپ فلسطین ، کشمیر ، شام یا کسی بھی جگہ کے شرعی طور پر ذمہ دار نہیں ہیں ، سواۓ اپنے ملک کے ۔

لیکن کیوں؟ میں پھر دہرا دوں ۔

 اسلامی قوانین میں کرداروں اور ذمہ داریوں کی تقسیم میں درجہ بندی موجود ہے۔

ہر مسلمان کو جائز اسلامی ذمہ داریوں کے مطابق ، اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ کوشش کرنا  ہے ، جو شرعی اصول و ضوابط سے متضاد نہ ہوں ۔

بطور مسلمان ، یہ آپ کی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے کہ آپ زمین پر اسلام کا نمونہ بن کر چلیں ۔ اول ، اللّٰه رب العزت کی خوشنودی کے لئے ۔ دوم ، لوگوں میں اللّٰه  کے دین کی عظمت کو دکھانا ۔ لہذا آپ ان کو اپنے اعلی آداب اور علم کے ساتھ اسلام کی دعوت دیتے رہیں ، اور اللہ کی دلیل کو قائم کریں ۔

 آپ اگر انتہا پسندی ، دہشت گردی یا کسی بھی غیر اخلاقی نظریے کو اپناتے ہیں – تو اسلام کے مطابق ، آپ بلاوجہ اسلام مخالف بن جاتے ہیں ، یہاں تک کہ پر امن غیر مسلم بھی آپ سے بہتر ہو جاتے ہیں ۔

شریعت کے اخلاقی اور قانونی اصول معقول طور پر الله کے حکم کے ذریعہ طے کیے جاتے ہیں ، آپ کی خواہش مند سوچ پر مبنی نہیں – چاہے آپ مسلمان ہونے کا کتنا بھی دعوی اور مظاہرہ کیوں نہ کریں۔

کچھ حکومتیں اور گھمرہ گروہ اپنے کرپٹ عقائد ، رومانٹک خُمار ، خیالی پلاؤ ، اور جھوٹی تمناؤں پر مبنی بدعنوان نظریات کو فروغ دے رہی ہیں ۔  جیسے کہ شیعہ ایران اور تصوف اور نقشبندی پر قائم ترکی ۔

غلط خواہشات کا یہ جذبہ سب سے خطرناک ہے –  نہ صرف یہ مسلمانوں کی بیداری کو بلکہ ان کی زندگیوں اور آخرت سب  کو خراب کردیتا ہے – مزید یہ کہ اسلام کے خالص تصور کو مسخ کر دینے سے غیر مسلموں کی حوصلہ شکنی اور غور و فکر و شعور کے مواقع بھی ختم کردیۓ  جاتے ہیں ۔

اسلام مخالف حکومتیں جیسے ایران اور ترکی ، اور ان کے گروہوں کے پرستار پیروکار جیسے اخوان المسلمون ، القاعدہ ، داعش ، تکفیری گروپ اور عراق ، شام ، لبنان اور یمن میں موجود شیعہ ملیشیا ۔ 

آپ کو خود ہی ان کے تکفیری عزائم کے نتائج نظر آئیں گے ۔ جہاں جہاں بھی یہ اثر انداز ہوۓ وہاں وہاں آپ کو  شرک ، قتل عام ، قتل وغارت گری ، بربادی اور جرائم  دکھے گی ۔

ٰمسلمانوں کے لئے مسجد اقصی کی اہمیت اور مقام اپنی جگہ مگر فلسطینیوں اور تمام مسلمانوں کی روحوں سے زیادہ اہم نہیں ۔ بلکہ خود کعبہ بھی ، اپنی عظمت اور اسلام میں اس کے مقام کے باوجود سعودیوں اور تمام مسلمانوں کی روح سے زیادہ اہم اور عظیم تر نہیں۔

فلسطینیوں نے جو ریاستی منصوبہ فروغ دیا ہے وہ اسلامی نہیں ہے۔  بلکہ ، وہ ایک سیکولر ریاست کی حمایت کرتے ہیں ، اور وہ ملحدیت پسندی کی بنیاد پرست کمیونسٹ اور بائیں بازو کے انتہا پسند  نظریات کو اپناتے ہیں ۔ اسلامی جواز اور نظریات کا دعوہ کرنے والے تو ہیں ، جبکہ حقیقت میں صورت الٹ ہے۔

یہ ہمارا اسلامی فریضہ ہے ، بطور سعودیوں اور غیر سعودیوں کے کہ ہم ہر اس چال کو بےنقاب کریں جس نے ہمیں فلسطین کے نام پر جذباتی ، اخلاقی ، مذہبی ، سیاسی ، معاشی اور فوجی طور  پر بلیک میل کیا ہوا ہے ۔ آزادی اسلامی شریعت کے قوانین کے مطابق لوگوں کی زندگی اور سکوں سے زیادہ اہم نہیں ۔

فلسطینی مسئلہ کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دشمنی کے تمام منصوبوں میں استعمال کیا گیا ہے , بلخصوص سعودی عرب کے خلاف ۔ سرزمین توحید سعودی عرب کے نام اور مقدس اسٹیٹس کو نشانہ بنایا گیا ۔ مسلمانوں کا دل سرزمین حرمین سے مخالف کیا سب فلسطین کے نام پر ۔

اخوان المسلمون کا دہشت گرد گروہ ، دہشت گرد تنظیم القاعدہ ، دہشت گرد تنظیم داعش ، دہشت گرد اور مجرم ایرانی حکومت ، جارحانہ حملہ أور عزائم والی ترک حکومت ، سب کے سب کرپٹ اور اپنے اپنے مفاد کے حامل ہیں ۔

یہ سبھی فلسطینی مسئلہ کو مسلمانوں کے قتل اور ان کو نقصان پہنچانے کے لئے کرتے ہیں ۔ اور دوسرے ممالک کے معاشروں کو ، سلامتی اور قومی صلاحیتوں کو تباہ کرنے کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں۔

مغربی ملحد کے ساتھ مل کر ایرانی، ترک اور قطری شیطانوں نے نام نہاد عرب اسپرنگ منصوبے کی سرپرستی کی ، جس نے مسلمان ملکوں کو تباہی میں اور لوگوں کو گروہوں ، چوروں اور خوف زدہ لوگوں میں تبدیل کردیا ۔

یہ تمام جماعتیں جو اسلامی اسباب کو استعمال کرتی ہیں ، بلخصوص  فلسطینی مسئلہ کو ، انہوں نے گذشتہ 70 سالوں سے فلسطینیوں یا دوسرے مسلمانوں کو کچھ فراہم نہیں کیا۔  نہ آزادی ، نہ ریاست ، نہ وقار ، نہ حقوق ، نہ ترقی ، نہ خوشحالی ، یہاں تک کہ انسانی امداد بھی نہیں۔

جبکہ سعودی عرب (ریاست توحید و شریعت) کئی عشروں سے خصوصا فلسطین کے تمام عطیات اور امداد  میں سب سے آگے رہا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کا بجٹ بنیادی طور پر سعودی حمایت پر منحصر ہے ۔

اور اس کے برعکس ترکی اور ایران نے سرزمین پر کسی بھی ملک  کو کوئی حقیقی امداد فراہم نہیں کی ہے اور نہ فلسطین کو ۔  البتہ دونوں نے اپنی معاشیات اور صلاحیتوں کو شرک ، بدکاری ، نفرت ، تنازعات اور جنگوں کو برآمد کرنے میں صرف کیا ہے۔

تركي،بن،علي،العويرضي یرالڈ رپورٹ کے ایڈیٹر ان چیف اور سیاسی تجزیہ کار ہیں۔ بیشتر مسلم دہشت گرد تنظیموں کے مذہبی نقشوں کے بارے میں ان کا علم ہی اس کے بہت سے “تنازعات کے تجزیوں” کو دنیا بھ کے سیکیورٹی کے متعدد ماہرین کے لئے معلومات کا ایک قیمتی ذریعہ بنا دیتا ہے۔

%d bloggers like this: