فیس ایپ کی خطرناکیاں اور شرعی قباحتیں

4 mins read

صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی

چہرے میں ردوبدل کرنے والا روسی کمپنی کا ’فیس ایپ‘ صارفین میں انتہائی مقبول ہو رہا ہے لیکن کئی مغربی سیاستدانوں نے خبردار کیا ہے کہ اس ایپ کو ڈاؤن لوڈ کرنے سے ان کا ڈیٹا غلط ہاتھوں میں جا سکتا ہے ۔

سعودی نیشنل سائبر سکیورٹی اتھارٹی نے سوشل میڈیا صارفین کو خبردار کیا ہے کہ ’’فیس ایپ ‘‘ کا استعمال نہ کریں۔

سائبرسکیورٹی اتھارٹی کے مطابق صارفین اس ایپ کو فوٹو لائبریری یا فوٹو شاپ تک رسائی نہ دیں کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں راز داری اور معلومات کو خفیہ رکھنے کی ضمانت نہیں دی جاتی ۔

شرعی حکم : آیئے سب سے پہلے تصویر کے بارے میں شریعت اسلامیہ کا کیا حکم ہے اس کا مطالعہ قرآن و سنت اور علمائے امت کی روشنی میں کر لیتے ہیں ، ہر مسلمان کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پیغام ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے ۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يوْمَ الْقِيامَةِ الْمُصَوِّرُونَ [صحيح بخاري كتاب اللباس باب عذاب المصورين يوم القيامة (5950)] الله کے ہاں قیامت کے دن سب سے سخت عذاب تصویریں بنانے والوں کو ہوگا۔ مزید فرمایا : أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ [صحيح بخاري كتاب اللباس باب ما وطئ من التصاوير (5954)] قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ کی تخلیق کی نقالی کرتے ہیں ۔ مندرجہ بالا احادیث اور دیگر بہت سے دلائل تصویر کی حرمت پر دلالت کرتے ہیں , اور یہ ایسا مسئلہ ہے کہ جس پر امت کا اتفاق ہے ۔

اور جو اختلاف ہے وہ اس بات میں واقع ہوا ہے کہ تصویر بنانے کے جدید ذرائع فوٹوگرافی , وغیرہ کیا حکم رکھتی ہے ؟ کچھ اہل علم کی رائے یہ ہے کہ یہ تصاویر نہیں ہیں بلکہ یہ عکس ہے , اور عکس کے جواز میں کوئی شک نہیں ہے , لہذا فوٹو گرافی جائز اور مشروع عمل ہے ۔

جبکہ اہل علم کا دوسرا گروہ اسے بھی تصویر ہی سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تصویر کی جدید شکل ہے , چونکہ تصویر کی حرمت میں کوئی شبہہ نہیں ہے , لہذا فوٹو گرافی اور ویڈیو ناجائز اور حرام ہے ۔
اہل علم کا ایک تیسرا گروہ یہ رائے رکھتا ہےکہ یہ تصویر ہی ہے , لیکن بامر مجبوری اور ضروری کاغذات یا آئی ڈی وغیرہ حکومتی قانون نے ہماری حفاظت و شناخت کیلئے جو ہمارے اوپر لازم کیا ہے اس کو بنانے اور رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے اسی طرح ہم دین کی دعوت و تبلیغ کی غرض سے ویڈیو کو استعمال کرسکتے ہیں ۔ یہ رائے اکثر اہل علم کی ہے جن میں عرب وعجم کے بھی بہت سے علماء شامل ہیں ۔

محدث عصر محمد ناصر الدین البانی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:
اگرچہ ہم تصویر کی ہر دو نوع (تصویر بنانا اور لٹکانا) کی حرمت کے پورے وثوق سے قائل ہیں لیکن اس کے باوجود ایسی تصویر جس سے کوئی یقینی فائدہ حاصل ہوتا ہو اور اس سے کوئی شرعی ضرر لاحق نہ ہو، کو بنانے میں ہم کوئی مانع نہیں سمجھتے۔ بشرطیکہ یہ فائدہ اس جائز طریقے کے سوا حاصل ہونا ممکن نہ ہو جیسا کہ طب وجغرافیہ میں تصویر کی ضرورت پیش آتی ہے، یا مجرموں کو پکڑنے اور ان سے بچاو وغیرہ کے سلسلے میں۔ تو یہ تصویریں شرعاً نہ صرف جائز بلکہ بسا اوقات واجب بھی ہوجاتی ہیں ۔

علامہ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے ذی روح کی تصویر کی دو قسمیں بیان کی ہیں.

1 – جو ہاتھ سے بنائی گئی یا پینٹنگ کی گئی یا ڈرائنگ کی گئی ہو یہ مطلقا سراسر حرام ہے ۔
2- کیمرے سے لی گئی تصویر یہ عکس کی طرح ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہ پائی جانے کے سبب اجتھاد کی بنیاد پر حلال کہنا حرام سے زیادہ احوط ہے ، لھذا کچھ شرطوں کے ساتھ جیسے فحش تصویریں ، غیر محرم عورتوں کی تصویریں ، اسی طرح البم کے اندر اگر کوئی یادگار کیلئے نہ رکھے تو ان شا ء اللہ جائز ہے اسی طرح اس دور جدید میں دین کی اشاعت کیلئے ویڈیوز کا استعمال بہتر اور فائدہ مند ہے ۔
اب رہی بات فیس ایپ کی تو تین وجوہ کی بنیاد پر اسے ناجائز کہا جا سکتا ہے.

2– اس ایپ کے اندر دھوکہ دہی کی تمام صورتیں پائی جاتی ہیں۔

2- اگر مرد اپنی شکل کو عورت میں تبدیل کرتا ہے ، یا عورت اگر اپنی شکل کو مرد میں تبدیل کرتی ہے ایسے مرد و عورت پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے ،( لھذا اگر کوئی تصویر کے ساتھ بھی ایسا کرتا ہے تو اسی ضمن میں شمار کیا جائے گا ۔) (ابن ماجہ:1903، عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ)

3 – بچپن کو جوانی یا جوانی کی تصویر کو پڑھاپا میں تبدیل کر کے رکھنا یا دیکھنا یہ مستقبل کا علم رکھنے اور اس پر یقین کرنے کی طرح ہے ۔
اس لئے اس سے بچنا اور بچانا بے حد ضروری ہے ۔ و اللہ اعلم

اللہ رب العلمین ہمیں ان خرافات سے دور رہنے کی توفیق بخشے ، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچائے ۔ آمین ۔

یہ مضمون ڈاکٹر خورشید عالم علیگ حفظہ اللہ ، لکھنو ۔ کی توجہ اور ان کی فرمائش پہ قارئین کرام کی خدمت میں پیش کرنے کی ادنی سی کوشش کر رہا ہوں ۔

%d bloggers like this: