بلاگ : سفرنامہ جبیل

7 mins read

مصنف ابو احمد محمد کلیم الدین یوسف

ایک دن نئے نمبر سے فون کی گھنٹی بجی، میں نے فون اٹھایا تو دوسری طرف ایک باوقار آواز والی شخصیت تھی جو اپنے اندر علم وتواضع کا سمندر سموئے ہوئے تھی، علیک سلیک کے بعد انہوں نے بتایا کے وہ مختار احمد مدنی صاحب بول رہے، میں لیٹا ہوا تھا اٹھا اور سنبھل کر بیٹھ گیا، کیوں کہ یہ شخصیت میرے لئے کوئی نئی نہیں تھی، میں ان کے سوالات کے جوابات اور بعض تحریروں سے مستفید ہوتا رہا ہوں، میں نے شیخ کا فونی استقبال کیا اور ضروری گفتگو کے بعد شیخ نے مجھے ایک پیش کش کی جس کے لائق میں قطعا نہیں تھا، شیخ نے کہا کہ ہم نے اپنے دعوہ سینٹر الجبیل میں دورہ علمیہ کیلئے آپ کا انتخاب کیا ہے، اور پھر شیخ نے چند موضوعات سامنے رکھا کہ اس میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلیں، میں نے شیخ کے حکم کو ٹالنا مناسب نہیں سمجھا اور الامر فوق الادب نے بھی مجھے انکار سے دور رہنے کا مشورہ دیا، چنانچہ میں نے دورہ علمیہ کے لیے امام دارمی رحمۃ اللہ علیہ کی معرکۃ الآراء کتاب سنن الدارمی کے مقدمہ کو اختیار کیا، شیخ نے چند ضروری باتیں عرض کی اور پھر کہنے لگے کہ آپ سے بقیہ گفتگو ناصر اللہ بھائی کرلیں گے، جاتے جاتے شیخ نے بتایا کہ آپ کے نام کی تجویز شیخ افتخار سلفی حفظہ اللہ نے کی تھی۔

شیخ افتخار سلفی حفظہ اللہ دار العلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ بہار کے ممتاز فارغین میں سے ہیں، اور شیخ نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں کلیۃ الحدیث الشریف سے بھی تعلیم حاصل کی ہے، میں بھی ہندوستان میں اسی مدرسے سے فارغ ہوں جس سے شیخ افتخار سلفی حفظہ اللہ نے فراغت حاصل کی ہے، جب شیخ محترم فراغت کی دہلیز پر تھے اس وقت میں حفظ خانہ میں تھا۔

چند ساعتیں گذری ہی تھیں کہ پھر سے ایک نئے نمبر نے فون کے دروازے پر دستک دی میں نے جیسے ہی ریسیو کیا دوسری جانب سے ایک محبت بھری آواز آئی ایسا لگا کہ برسوں پرانے دوست ہوں جنہیں مجھ سے ملاقات کی شدید تمنا ہو، یہ ناصر اللہ بھائی تھے، رسمی گفتگو کے بعد ناصر اللہ بھائی نے دورہ علمیہ سے متعلق پوری تفصیلات گوش گذار کی، اس کے بعد دورہ علمیہ کے متعلق ہماری گفتگو کا سلسلہ کئی دنوں تک جاری رہا۔

جمعرات کی صبح فضائی سفر تھا جہاں چند ساعتوں بعد ہی میں دمام ہوائی اڈے پر تھا، ناصر اللہ بھائی نے نعیم بھائی کو مجھے ائیر پورٹ سے الجبیل لانے کیلئے بھیجا تھا، نعیم بھائی وقت سے قبل ہی ہوائی اڈے پر موجود تھے، لیکن مجھے ہی بعض اسباب کی بنیاد پر باہر نکلنے میں تاخیر ہوئی، اس دن وہاں موسم بھی بدلا ہوا تھا، ریت کا دھندلا طوفان راہگیروں کو چہرہ چھپانے پر مجبور کر رہا تھا، بیس میٹر دور کی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی تھی، باہر نکل کر نعیم بھائی کو کال کیا، سامنے سے ایک پر اعتماد شخصیت کے مالک اپنے چہرے پر سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سجائے مسکراتے ہوئے میری طرف آتی نظر آئی، میں دل میں سوچا ہو نہ ہو یہی نعیم بھائی ہیں، میں اسی سوچ میں گم تھا کہ انہوں آگے بڑھ کر والہانہ انداز میں اسلامی طریقے سے پرتپاک استقبال کیا، پھر مجھ سے کہنے لگے کہ ہماری گاڑی خراب ہوگئی ہے، اس لئے دوسری گاڑی کرایہ پر لینی ہوگی، ہم نے ایک گاڑی کرایہ پر لیا اور جبیل کی طرف چل پڑے۔

گاڑی کا ڈرائیور ایک سلجھا ہوا سعودی شخص لگ رہا تھا، اس نے گفتگو شروع کی اور سعودی حکومت کے متعلق کچھ ایسی باتیں کرنے لگا گویا کہ وہ میرا امتحان لے رہا ہو، میں نے طاعت ولی الامر کے متعلق چند احادیث اور متقدمین و متاخرین اور معاصرین علماء کرام رحمہم اللہ وحفظ الاحیاء منہم کا موقف ان کی سماعت تک پہنچائی تو اس کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ دوڑ گئی، اور اس نے برجستہ کہا کہ تم سلفی ہو، اور پھر اس نے کہا کہ میں یہاں فوجی ہوں اور ایک دوسرے محکمہ میں خاص عہدے پر فائز ہوں، اور ساتھ ہی اس نے مجھے نصیحت کی کہ دنیا اور آخرت میں نجات پانی ہے تو منہجِ سلف صالحین کو مضبوطی سے تھامے رہنا، اور عصر حاضر میں ایک فرقے کے جھانسے میں کبھی مت آنا، وہ فرقہ اخوان المسلمین ہے، راستے میں رافضیوں کی بستی قطیف سے گذر ہوا تو اس نے مجھے کہا یہ لوگ مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں، پھر اس ان رافضیوں کے خلاف حکومت کی حکمت عملی اور ان کے بدعات کی روک تھام کیلئے سعی پیہم کا طویل ذکر کیا۔

تقریبا سوا گھنٹہ بعد ہم الجبیل پہنچ گئے، نماز ظہر اور عصر ادا کی، شیخ افتخار سلفی حفظہ اللہ نے پر تکلف ضیافت کا اہتمام کیا تھا، ہم وہاں پہنچ گئے وہاں پر جبیل دعوہ سینٹر کے بعض درخشاں ستاروں سے ملاقات ہوئی، جن میں شیخ مختار احمد مدنی، شیخ علی سرور مدنی اور شیخ مشتاق مدنی حفظہم اللہ قابل الذکر ہیں، ان علماء کے ملنے کے انداز سے ایسا لگ رہا تھا کہ ہم بہت دنوں سے ایک ساتھ زندگی گذار رہے ہوں، کسی اجنبیت کا کوئی احساس ہی نہیں تھا، یہ تمام علماء کرام مجھ سے علم وفضل اور دعوتی خدمات کے اعتبار سے کہیں زیادہ بہتر اور بہت اوپر ہیں، لیکن حسن اخلاق کا اعلی ترین نمونہ جو انہوں نے پیش کیا وہ ہم صرف کتابوں میں ہی پڑھتے ہیں، ایسی مثال خال خال ملتی ہے۔

پھر ان مشایخ کے ساتھ دعوہ سینٹر گیا جہاں ہندی، اردو، نیپالی، بنگلہ، کیرل، فلپائن، اور دیگر مختلف زبان کے دعاۃ سے ملاقات ہوئی، اردو شعبہ کے داعی شیخ مختار احمد مدنی حفظہ اللہ ہیں، جبکہ ہندی شعبہ میں شیخ افتخار مدنی حفظہ اللہ ہیں، ان دونوں شعبہ کے ماتحت اردو اور ہندی زبان کے کئی متعاونین دعاۃ اہل علم وفضل کی نگرانی میں دعوتی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں، صرف اردو اور ہندی زبان میں میں تقریبا اکتالیس (41) مقامات پر جمعہ کا خطبہ دیا جاتا ہے۔

انہی متعاونین دعاۃ کیلئے دورہ علمیہ کا انعقاد عمل میں آتا ہے، دورہ علمیہ کی ابتدا 1434ھ سے ہوئی ہے، گذشتہ چھ سال میں جبیل دعوہ سینٹر کے زیر انتظام اٹھارہ دورہ علمیہ کا انعقاد عمل میں آچکا ہے۔

ان دورات میں مختلف علوم وفنون پر مشتمل کتابیں اور موضوعات پر دروس ہوئے جیسے
عقیدۃ اہل السنۃ والجماعۃ، الضوا بط في البدع، القواعد المثلى، العقيد الطحاوية، رفع الملام عن أئمة الأعلام، أشراط الساعة الكبرى والصغرى، الإيمان باليوم الآخر، شرح السنة، شرح نواقص الإسلام، مسائل الجاهلية، البيوع المحرمة، تاريخ أهل الحديث، كن سلفيا على الجادة، أسباب اختلاف العلماء، تزكية النفوس اور مقدمہ سنن الدارمی وغیرہ۔
دعاۃ کی تربیت کیلئے مذکورہ اہم کتابوں اور موضوعات کا انتخاب وہاں پر موجود علماء کرام کی منہج سلف سے شدید محبت کا غماز ہے۔

خالص منہج سلف پر ان دعاۃ کی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا جاتا ہے، اور پھر انہیں دعاۃ کی مدد سے شہر جبیل میں سال بھر تقریباً پندرہ جگہوں پر دورہ شرعیہ بھی ہوتا رہتا ہے جس میں عام لوگوں کو توحید، فقہ، تفسیر، حدیث، سیرت کی تعلیم دی جاتی ہے۔

دعوہ سینٹر کیاہے ! تعلیم و تربیت کی ایک الگ دنیا ہی بسی ہوئی ہے، جہاں بچے اور بچیوں کی تعلیم و تربیت سلفی دعاۃ اور معلمات کے زیر سایہ انجام پاتے ہیں، عقیدہ توحید، اسلامی آداب واخلاق، حفظ قرآن مجید پر خاصی توجہ دی جاتی ہے، یاد رہے کہ یہ بچے اور بچیاں عصری اسکول میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، لیکن وہاں پر موجود علماء کرام نے انہیں اسلامی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے حکومت کی مدد سے اس دینی تربیت گاہ کی بنیاد ڈالی تاکہ نونہالان قوم وملت الحاد و لادینیت اور فکری گمراہی کا مقابلہ کر سکیں، اور اپنے دین وعقیدہ کی حفاظت کرتے رہیں۔
وہاں پر موجود دعاۃ کی کاوشوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں گے تو عقل حیران رہ جائے گی، پچھلے چار سالوں میں اللہ رب العالمین نے اس دعوہ سینٹر کے دعاۃ کے ذریعہ بیس ہزار (20000) غیر مسلموں کو حلقہ بگوش اسلام ہونے کی توفیق عطا فرمائی، یہ تو مشتِ نمونہ از خروارے ہے ورنہ سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کیلئے۔

مذکورہ اقتباس سے برادرس ( زبردستی کے مفتیوں) کا یہ دعویٰ بھی مردود ہوجاتا ہے کہ علماء غیر مسلموں کے درمیان دعوت کا کام نہیں کرتے ہیں، اوپر دیا گیا عدد صرف ایک دعوہ سینٹر کا ہے، اگر تمام دعوہ سینٹر کو اعدادوشمار میں لایا جائے تو نہ جانے تعداد کہاں پہنچ جائے گی۔

پھر میں نے مغرب کی نماز ادا کی، بعد نماز شیخ مختار احمد مدنی حفظہ اللہ نے دو اشخاص سے ملاقات کروائی، ایک اسماعیل بھائی اور دوسرے سہیل بھائی، شیخ نے بتایا کہ یہ دونوں علماء کرام کی خدمت کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں، دونوں کے ساتھ میں دو دن رہا اور ہم جب بھی ملتے کوئی نہ کوئی دینی موضوع نکل ہی آتا۔

پھر صبح سے دور علمیہ کا آغاز ہوا، شیخ مختار احمد مدنی حفظہ اللہ نے ایک جامع اور نافع تمہید سامعین کی خدمت میں رکھی، جس کے ہر جملے سے تعظیم سنت کی خوشبو پھوٹ رہی تھی، پھر دورہ کا آغاز ہوا، اللہ کی مدد سے تقریبا نو نشستوں میں دورہ علمیہ اپنے اختتام کو پہنچا۔

اس دورے میں کئی ایسی شخصیت سے ملاقات ہوئی جن کو صرف سوشل میڈیا پر ہی پڑھنے کا شرف حاصل تھا، جسے شیخ صفی الرحمن بن مسلم فیضی حفظہ اللہ، آپ کمال کے شاعر بھی ہیں، اللہ آپ کے علم وعمل میں برکت عطا کرے۔

میرے مشفق اور مربی شیخ بدیع الزماں سلفی مدنی حفظہ اللہ کا بھی ورودِ مسعود ہوا، ان سے بھی ملاقات ہوئی، شیخ نے میرے بچپن سے ہی میری تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، ہمیشہ نصیحت کرتے رہے، اور ترقی کی دعائیں بھی دیتے رہے، اللہ رب العالمین شیخ کو صحت وعافیت کے ساتھ رکھے۔

اب سفر کا آخری مرحلہ تھا، دورہ کی آخری نشست کے بعد جبیل دعوہ سینٹر کے متعاونین نے نے تمام مشارکین کیلئے عمدہ اور لذیذ کھانے کا انتظام کیا، جس سے لطف اندوز ہونے کے بعد الوداعی کا وقت آن پہنچا، اور پھر شعیب اور صادق بھائی کے ہمراہ ہم نے رخت سفر باندھا، اور اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگئے۔

%d bloggers like this: