مسلمان خوش کس وجہ سے – کانگریس کی جیت یا بی جے پی کی ہار سے؟

3 mins read

صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی

ہاں اس ایلکشن سے ایک بات ضرور ثابت ہوگٸی کہ ہندوستان میں جمہوریت ابھی زندہ ہے

مسلمانوں یا کہہ لیں سیکولر ھندوستانیوں کے خوشی کیوجہ کانگریس کی جیت یا بی جے پی کی ہار نہیں ، بلکہ خوشی اس ذھنیت کی ہار کیوجہ سے ہے ، جو ملک میں بدامنی ، فرقہ پرستی ، ھندتوادی ، ذھنیت کے سبب مسلمانوں ، دلتوں ، بلکہ ہر وہ شخص جو ان کے اس ذھنیت کا مخالف ہے ، اسے اینٹی نیشنل ، ھندو دشمن کہہ کر موب لنچنگ کے ذریعہ موت کے گھاٹ اتارنے والے ، اور فسادیوں ، پلاتکاریوں کو شہہ دینے والوں کی ہار کیوجہ سے ہے ،

مسلمانوں کیلٸے اگر ایمانداری سے کہا جاٸے تو بھاجپا اور کانگریس میں اتنا ہی فرق ہے جتنا کافر اور منافق میں ، یعنی کانگریس کی بعض خطرناکیاں مسلمانوں کیلٸے بھاجپا سے بھی سخت ثابت ہوٸیں ہیں ، لیکن بھاجپا نے دیش کے امن و امان کو ہی ھندتوا اور ظلم و بربریت کی بھٹی میں جھونک دیا ہے ، اس کا بدیل کانگریس کے علاوہ کوٸی نہیں رہا ، اس وجہ فرقہ پرستوں کی ہار خوشی کا باعث ہے ، ورنہ آزادی کے بعد سے اب تک مسلمانوں کی زبوں حالی کی ذمہ دار ، تعلیمی سیاسی معاشی حیثیت سے کانگریس ہی ہے ، اور آر ایس ایس جیسی کٹر پنتھی ھندو تنظیموں کی گود میں کھیل کر ہی کیاگیا ہے ، کانگریس ہی کی دین ہے کہ بھاجپا یہاں تک پہونچی ہے ، کہ دیش کا کونہ کونہ ظلم و بربریت ، موب لنچنگ ، بلاتکار اور اس کے بعد بے رحمی سے قتل ، تعلیم یافتہ نوجوانوں کا معاشی قتل ، طلبا ٕ کا تعلیمی قتل ، کسانوں کا زرعی قتل ، اور تجارت پیشہ لوگوں کا تجارتی قتل ، سرعام ہورہا ہے ۔ اور شرپسندوں کے حوصلے بڑھے جارہے ہیں ۔

ہاں اس ایلکشن سے ایک بات ضرور ثابت ہوگٸی کہ ہندوستان میں جمہوریت ابھی زندہ ہے ، نفرت پھیلانے والوں سے مضبوط ابھی امن پسند ہیں ، اور جب تک ملک میں سبودھ سنگھ جیسے انصاف پسند انسپکٹر موجود رہیں گے ملک کا امن باقی رہے گا ، جس طرح انہوں نے جان کی قربانی دے کر ایک بڑے خون خرابے سے ملک کو بچا لیا ، یہ بہت بڑی بات تھی ، ورنہ سیاسی پالیسی کے تحت تبلیغی اجتماع کے موقع سے پوری پلاننگ کے ساتھ فساد کی غرض سے بلند شہر میں گاٶ کشی کا ڈرامہ رچا گیا تھا ۔

ان حالات میں یہ الکشن لڑاگیا تھا اسی لٸے یہ فسادیوں اور امن پسندوں کا امتحان بھی تھا ، جس میں امن پسند ، ترقی پسند لوگوں کی کامیابی ہوٸی ۔

کانگریس کو چاہیٸے کہ ھوش کے ناخن لے ، پرانی غلطیوں سے سبق سیکھے ، انسانیت کو باقی رکھے ، دشمنوں کی چالوں کو سمجھیں ، کانگریسی دور میں جتنے بے گناہ مسلمان نوجوان جیلوں میں ڈالے گٸے سب اسی کم فہمی کا نتیجہ تھا ۔

اس لٸے اپنی پالیسیوں کو بدل کر سب کے حقوق کا پاس و لحاظ رکھتے ہو ٸے کام کریں ، تو اس ملک کو فرقہ پرستوں سے بچایا جا سکتا ہے اور ارتقا ٕ کی نٸی راہ دی جاسکتی ہے ۔

صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی الجبيل سعودی میں رہتے ہے، اور وہ مذہبی اور سماجی معاملات پر لکھتے ہے۔

خصوصی نوٹ: اس سیکشن میں لکھنے والوں کی طرف سے اظہار خیالات ان کے اپنے ہیں اور اس ویب سائٹ کی نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں.

%d bloggers like this: